مولانا طارق جمیل اور بڑھتی ہوئی آبادی سمپوزیم:

مولانا طارق جمیل اوربڑھتی ہوئی آبادی سمپوزیم:
سٹیج پر عمران خان صاحب اور جسٹس ثاقب نثار صاحب تشریف فرما تھے
مولانا طارق جمیل صاحب نے داخل ہونے کی اجازت چاہی
خان صاحب اور جسٹس صاحب نے کھڑے ہو کر سلام کیا
مولانا مائیک کی طرف تشریف لے گئے
خطاب کا آغاز کچھ قرآنی آیات اور ایک حدیث مبارکہ سے کیا
ہمیشہ کی طرح مولانا کا یہ خطاب بھی موضوع کی قید سے آزاد ہی دکھائی دیا
مولانا نے اپنے خطاب میں عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا
یہ پہلا شخص ہے جس نے ریاست مدینہ کا تصور پیش کیا ،مجھے لگتا ہے اس کی نیت اچھی ہے
مولانا نے چیف جسٹس کے متعلق کہا
یہ وہ وہ کام کر رہے ہیں ،جو ان کے ذمے بھی نہیں ہیں ،میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں
مزید مولانا نے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا
میری ساری زندگی کی عبادت اور جسٹس صاحب کا ایک دن کا عدل برابر ہے
مولانا نے جسٹس کھوسہ صاحب کو کہا ،میں اور آپ ایک ہی جگہ پڑھتے تھے
ساتھ ہی مسکراتے ہوئے شعر کا یہ مصرعہ پڑھ دیا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

آبادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے
مولانا نے کہا
ہمارے ملک میں بچے زیادہ پیدا ہونے کیوجہ جہالت ہے
کیونکہ
بچہ نے ہونے پر ساس بہو کو طعنے دیتی ہے
مولانا نے مسکراتے ہوئے کہا
شوہر کو دوست کہتے ہیں،یار تو نامرد لگتا ہے
پھر کہتے ہیں
اسی لیے سارے ملک میں شباب آور گولیوں کے اشتہار لگے نظر آتے ہیں

مولانا نے کہا
غریب اس لیے زیادہ بچے پیدا کرتا ہے ،تاکہ وہ اسے مزدوری کرکے کھلائیں
اور
اسکی زندگی سکون سے گزرے
مولانا نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا
حکمران کی نیت خراب ہو جائے اور وہ ہر چیز پر ٹیکس لگانے کا ارادہ کر لے ،تو پیداوار میں بھی کمی ہو جاتی ہے
تبصرہ:
مولانا تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں
جن کی پالیسی ہے
کسی کو برا اور غلط نہیں کہنا چاہیے
اس وجہ سے مولانا نے ان دونوں حضرات کی غلطیاں انہیں نہیں بتائی ،
صرف انکے اچھے کاموں کو بیان کیا اور اسی پر انکی تعریف کر دی
اس سے فائدہ یہ ہوا کہ یہ لوگ آئندہ بھی ایسے علماء کو اپنی مجالس میں بلایا کریں گے
اور
ان سے خطاب کروایا کریں گے
جس سے دین کا کچھ نہ کچھ فائدہ ہوگا
لیکن
اس سے نقصان بھی بہت ہوا
لوگ سمجھیں گے
آبادی کو کنٹرول کرنا
اور
” بچے دو ہی اچھے”
والا نعرہ بالکل درست ہے
کیونکہ
مولانانے بظاہر اسکی حمایت کی ہے
کل کو لوگ بطور دلیل کہا کریں گے
مولانا نے جن لوگوں کی تعریفیں کی ہیں
یقینا وہ بڑے اعلی درجے کے لوگ ہوں گے
کیونکہ
کوئی عالم کسی غلط آدمی کی تعریف نہیں کر سکتا
کیونکہ
حدیث میں آتا ہے
فاسق کی مدح سے عرش بھی کانپ جاتا ہے
امام غزالی نے لکھا ہے
جو شخص یہ پسند کرتا ہوں کہ
سب لوگ اس سے راضی رہیں اور اس سے محبت کریں
وہ شخص کبھی احتساب (نھی عن المنکر ) نہیں کر سکتا
حضرت کعب الاحبار کہتے ہیں
جو شخص احتساب (نھی عن المنکر ) کرے گا ،وہ اپنی قوم میں ذلیل و خوار ہو گا
از
احسان اللہ کیانی
2۔دسمبر۔2018

Advertisements

عمران خان صاحب بھاری جرمانے کیوں ؟

13pakistan-image1-superJumbo

عمران خان صاحب بھاری جرمانے کیوں ؟

دوستوں وہی ہوا جس کا ڈر تھا

پی ٹی آئی کی

حکومت نے مذہب دشمنی میں ایک قدم مزید آگے بڑھا دیا

خادم رضوی اور تحریک لبیک کے دیگر رہنمائوں پر بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج کر دیے

خادم رضوی کے خلاف لاہور میں جبکہ پیر افضل قادری کے خلاف گجرات میں اسی نوعیت کے مقدمات درج کر دیے گئے ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری  کا  کہنا تھا

گاڑیاں جلانے والوں ،توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں

 اور حیرت کی بات یہ ہے کہ

انھوں نے کہا

جو لوگ احتجاج میں موجود تھے

لیکن

کسی توڑ پھوڑ میں ملوث نہیں تھے

انہیں بھی بھاری جرمانوں اور ضمانتوں کے بعد رہا کیا جائے گا

سوال یہ ہے کہ بھاری جرمانے کیوں ؟

کیا پر امن احتجاج ان کا قانونی حق نہیں تھا

اگر ہاں

تو پھر یہ بھاری جرمانے کیوں ؟

از

احسان اللہ کیانی

2۔دسمبر۔2018

 

عمران خان کے پیچھے برطانیہ ہے:

عمران خان کے پیچھے برطانیہ ہے :
انیل مسرت برطانیہ میں مقیم امیر ترین ایشیائی باشندے ہیں
انکی عمر تقریبا پچاس سال ہے ،بچپن میں ان کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا ،انھوں نے اپنے تایا سے پراپرٹی کا بزنس سیکھا
اور
گھر کرائے پر دینے لگے
رفتہ رفتہ کاروبار پھیلنے لگا
اور
اب پورے برطانیہ میں ان کا کاروبار پھیلا ہوا ہے
یہ فقط کاروباری شخصیت ہی نہیں ہیں
بلکہ
ان کے برطانوی حکمرانوں کے ساتھ بھی بڑے قریبی تعلقات ہیں
ٹونی بلئیر اور ڈیوڈ کیمرون تک ان سے ملتے نظر آتے ہیں
آپ کو حیرت ہوگی
برطانوی فوج کے کمانڈر مسٹر نِک کے ساتھ بھی ان کی بات چیت ہے
پچھلے چند سالوں سے یہ پاکستان کے اہم ترین لوگوں کے ساتھ بھی نظر آرہے ہیں
بظاہر ایسا لگتا ہے
تبدیلی کے پیچھے دراصل ان ہی کا ہاتھ ہے
یہ دھرنوں کے ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سے بھی مل چکے ہیں
اور
عمران خان کے دھرنے کے دوران ان کے سٹیج پر بھی موجود تھے
آپ انکی پہنچ کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں
جب یہ دھرنے کے دوران پاکستان آنے لگے
تو یہ خود براہ راست برطانوی وزیر اعظم سے ملے
جس کے بعد برطانوی حکومت نے یہ یقینی بنایا کہ کوئی شخص پاکستان میں انھیں گرفتار نہیں کر سکتا
حیرت کی بات یہ ہے
یہ پاکستانی آرمی چیف سے بھی تعلقات رکھتے ہیں
اس سے بڑھ کر حیران کن بات یہ ہے
چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار صاحب اپنے دورہ برطانیہ میں انہیں کے پاس رکے
انھوں نے عمران خان کی الیکشن کمپین میں خوب پیسہ لگایا تھا،اب یہ پاکستان میں پچاس لاکھ گھر بنا کر دیں گئے
اور
ڈیم فنڈ مہم میں بھی یہ پیش پیش ہیں
آپ دھرنوں سے لے کر اب تک کے حالت کا اس زاویے سے جائزہ لیں
بہت سے حقائق سامنے آ جائیں گے
از
احسان اللہ کیانی
27-نومبر۔2018

پیر اور جمعرات کے دن کی اہمیت :

پیر اور جمعرات کے دن کی اہمیت :

تحریر:احسان اللہ کیانی

ہم جو بھی عمل کرتے ہیں ،اسے اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے

یہ پیش کرنا تین طرح سے ہوتا ہے

پہلی صورت :

ہر دن اور ہر رات کے اعمال پوری تفصیل کے ساتھ پیش کیےجاتے ہیں  

دوسری صورت :

پھر سات دنوں کے اعمال پیر اور جمعرات کے دن پیش کیے جاتے ہیں

تیسری صورت :

پھر سارے سال کے اعمال شعبان کی پندرہویں شب کو پیش کیے جاتے ہیں ۔

اسی لیے نبی کریم علیہ السلام پیر ، جمعرات اور شعبان کی پندرہوریں تاریخ کا روزہ رکھا کرتے تھے  

آپ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے ،مجھے پسند ہے کہ جس دن  اللہ کی بارگاہ میں میرے اعمال پیش کیے جائیں ،اس دن میں روزہ کی حالت میں ہوں

پیر کے دن روزہ رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام اس  دن پیدا ہوئے تھے ،اسی دن آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی ۔

ہمیں بھی ان دنوں کو خاص اہتمام کے ساتھ گزارنا چاہیے ،ان دنوں میں کثرت سے عبادت کرنی چاہیے ،روزہ رکھنا چاہیے ،ان دنوں میں اللہ سے بخشش طلب کرنی چاہیے ،توبہ کرنی چاہیے ،ان دنوں سے پہلے پہلے لوگوں سے بھی معافی مانگ لینی چاہیے

کیونکہ

پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازہ کھو ل دیے جاتے ہیں ،اس دن اللہ تعالی لوگوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ،اس دن جو مغفرت طلب کرتا ہے ،اسے بخش دیا جاتا ہے ،جو توبہ کرتا ہے ،اسکی توبہ قبول کی جاتی ہے

البتہ

جو مسلمان آپس میں لڑے ہوئے ہوتے ہیں ،جو آپس میں ناراض ہوتے ہیں ،انکی بخشش ان دنوں میں بھی نہیں کی جاتی ،اسی طرح جو شخص رشتہ داروں سے رشتہ داری ختم کر دیتا ہے ،اسکی بھی ان دنوں میں بخشش نہیں کی جاتی ۔

یہی وجہ ہے کہ

نبی کریم علیہ السلام نے منع فرمایا ہے کہ

کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے تین دن سے زیادہ ناراض نہ رہے

کیونکہ

اگر کوئی ناراض رہے گا ،تو وہ بخشش سے محروم رہ جائے گا

آپ غور کریں

مسلمانوں کی باہمی لڑائی اور رشتہ داروں سے تعلق ختم کرنا کیسے  گناہ ہیں ،کہ ان کی وجہ سے مغفرت رُک جاتی ہے ،ہاں اگر لوگ آپس میں صلح کر لیں ،ایک دوسرے سے معافی مانگ لیں ،تو پھر اللہ تعالی بھی انہیں معاف فرمادیتا ہے

اب ہم اپنی بات کو قابل اعتبار بنانے کیلئے ،تحر یر میں لکھے گئے،  ہر ہر جملے پر ایک ایک  دلیل پیش کردیتے ہیں،تاکہ آپ اسے پورے اطمینان کے ساتھ دوسروں تک بھی پہنچا سکیں ۔

 

ملاحظہ فرمائیں

ہماری باتوں کے دلائل :

 

صبح و شام اعمال کا پیش ہونا :

حدیث شریف میں ہے :

إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ

ترجمہ :

بے شک اللہ تعالی سوتا نہیں ہے ،یہ اس کی شان کے لائق بھی نہیں ہے کہ وہ سو جائے ،وہ میزان کو پست اور بلند کرتا ہے

رات کے عمل ،دن کے عمل سے پہلے اسکی طرف بلند کیے جاتے ہیں  اور دن کے عمل رات کے عمل سے پہلےاسکی طرف بلند کیے جاتے ہیں

اس کی ذات کا  حجاب نور ہے ،اگر وہ اس نور کے حجاب کو ہٹا دے ،تو اسکی ذات کے انوار تمام مخلوقات کو جلادیں ،مخلوقات میں سے کسی کی نظر اس تک نہیں پہنچ سکتی ۔

(صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،باب فی قولہ علیہ السلام ان اللہ لا ینام )

 

پیر اور جمعرات کے دن اعمال کا پیش ہونا  :

حدیث شریف میں ہے

تُعْرَضُ الأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالخَمِيسِ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ»

اعمال پیر اور جمعرات کے دن اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ،اس لیے میں پسند کرتا ہوں ،جب میرے اعمال پیش کیے جائیں ،تو میں روزہ دار ہوں

(سنن ترمذی ،ابواب الصوم ،باب ما جاء فی صوم یوم الاثنین والخمیس،حدیث :747،مصطفی البابی  الحلبی ،مصر)

 

توجہ طلب :

 

پیرا ور جمعرات کے دن روزہ رکھنا بھی سنت ہے

اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ،یہ بات صراحت کے ساتھ سنن نسائی میں موجود ہے

 

پیر اور جمعرات کے دن مغفرت کی جاتی ہے :

حدیث شریف میں ہے :

تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ، فَيَغْفِرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا "

ترجمہ :

پیر اور جمعرات کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں ،اللہ ان دنوں میں ہر شخص کی بخشش فرما دیتا ہے ،جو مشرک نہ ہو اور مسلمان سے بغض ،کینہ اور دشمنی نہ رکھنے والے ہو ۔

دشمنی والوں کے لیے حکم ہوتا ہے ،انہیں چھوڑ دو ،یہاں تک کہ وہ آپس میں صلح کر لیں

(صحیح مسلم ،کتاب البر والصلۃ ،باب النھی عن الشحناء)

 

پیر و جمعرات کو لوگوں کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں :

حدیث شریف میں ہے:

تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ الذُّنُوبَ، إِلَّا قَاطِعَ رَحِمٍ، أَوْ مُشَاحِنًا

ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں ،ان دنوں میں اللہ گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے ،سوائے قاطع رحم اور مشاحن کے

(مساوئ الاخلاق ،امام خرائطی ،ج 1 ،ص 136،حدیث 276،مکتبۃ السوادی ،جدہ )

 

توجہ طلب :

رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والوں  اور آپس میں عداوت رکھنے والوں کے گناہ ان ایام میں بھی معاف نہیں کیے جاتے

 

امام مناوی وغیرہ نے اس طرح کی حدیث کی وضاحت میں لکھا ہے :

اس دن صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں ، کبیرہ گناہوں کی معافی کیلئے توبہ کرنا ضروری ہے

(التیسیر شرح الجامع الصغیر ،امام مناوی ،ج1،ص 450،مکتبۃ الامام الشافعی ،الریاض )

 

ان دنوں لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے :

حدیث شریف میں ہے

تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَمِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَيُغْفَرُ لَهُ، وَمِنْ تَائِبٍ فَيُتَابُ عَلَيْهِ، وَيُرَدُّ أَهْلُ الضَّغَائِنِ لِضَغَائِنِهِمْ حَتَّى يَتُوبُوا

ترجمہ :

پیر اور جمعرات کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ،جو مغفرت طلب کرنے والا ہوتا ہے اسکی بخشش کی جاتی ہے ،جو توبہ کرنے والا ہوتا ہے ،اسکی توبہ قبول کی جاتی ہے ،کینہ رکھنے والوں کو کینہ کی وجہ سے رد کر دیا جاتا ہے ،یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں ۔

(المعجم الکبیر ،حدیث 7419،دار الحرمین ،القاھرہ)

 

شعبان میں اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں :

حدیث شریف میں ہے

إِنَّهُ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ وَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ

شعبان وہ ماہ ہے ،جس میں لوگوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں ،میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے اور میں روزے کی حالت میں ہوں

(مرقاۃ شرح المشکاۃ ،ج4،ص 1422،دار الفکر ،بیروت )

 

شب برات میں گزشتہ سال کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں :

ملاعلی قاری فرماتے ہیں :

وَالَّذِي يَلُوحُ لِي الْآنَ أَنَّ لَيْلَةَ النِّصْفِ هِيَ الَّتِي تُعْرَضُ فِيهَا أَعْمَالُ السَّنَةِ الْمَاضِيَةِ كَمَا أَنَّهَا تُكْتَبُ فِيهَا جَمِيعُ مَا يَقَعُ فِي السَّنَةِ الْآتِيَةِ، وَلِذَا قَالَ: ” قُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا

جو مجھ پر ابھی ظاہر ہوا ہے کہ وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہی وہ رات ہے جس میں گزشتہ سال کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ،جیسے اسی رات اگلے سال کے رونماہونے والے واقعات  لکھے جاتے ہیں ۔

اسی لیے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا

اس رات قیام کرو اور دن کا روزہ رکھو

(مرقاۃ شرح المشکاۃ ،ج4،ص 1422،دارالفکر ،بیروت )

 

ان روایات کو سمجھنے کیلئے ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول ملاحظہ فرمائیں :

امام ابن حجر کا قول :

َقَالَ ابْنُ حَجَرٍ: أَعْمَالُ الْأُسْبُوعِ إجْمَالًا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ وَأَعْمَالُ الْعَامِ إجْمَالًا لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلَيْلَةَ الْقَدْرِ وَأَمَّا عَرْضُهَا تَفْصِيلًا فَبِرَفْعِ الْمَلَائِكَةِ لَهَا بِاللَّيْلِ مَرَّةً وَبِالنَّهَارِ مَرَّةً

ترجمہ:

علامہ ابن حجر فرماتے ہیں

ہفتے کے اعمال اجمالا پیر اور جمعرات کے دن پیش کیے جاتے ہیں ،سال کے اعمال اجمالا شعبان کی پندرہویں شب اور لیلۃ القدر کو پیش کیے جاتے ہیں ،تفصیلا اعمال صبح شام ایک ایک مرتبہ فرشتے پیش کر تے ہیں

(حاشية البجيرمي على شرح المنهج )

 

پیر اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں  :

حدیث شریف میں ہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ – وَتُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، إِلَّا الْمُتَشَاحِنَيْنِ، يَقُولُ اللهُ لِلْمَلَائِكَةِ: ذَرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا

ترجمہ:

پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پیر اور جمعرات کے دن اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ،اس دن اللہ تعالی ہر اس بند ے کو معاف فرمادیتا ہے ،جو کافر نہ ہو اور کسی مسلمان سے بغض او رعداوت نہ رکھتا ہو ۔

جو مسلمان آپس میں ناراض ہوتے ہیں ۔۔۔اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے ۔۔۔انہیں چھوڑ دو ۔۔۔۔حتی کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ۔

(مسند احمد :7639)

اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں ،یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے ۔

 

صحیح مسلم کی شرح اکمال المعلم میں ہے

معنى فتح أبوابها: كثرة الصفح والغفران فى هذين اليومين، ورفعة المنازل، وإعطاء الجزيل من الثواب، ويحتمل أن يكون على ظاهره، وأن فتح أبوابها علامة على ذلك ودليل عليه.

ترجمہ :

جنت کے دروازے کھلنے سے مراد ،ان دنوں میں کثرت سے معافی ،بخشش ،درجات کی بلندی اور ثواب کی زیادتی ہے

یہ بھی احتمال ہے کہ ان الفاظ کے ظاہر ی معنی ہی مراد ہو ،اور جنت کے دروازے کھلنا ،اس پر دلیل اور علامت ہو۔

(اکمال المعلم ،قاضی عیاض ،ج8،ص 33،دار الوفاء ،مصر )

 

پیر کے دن روزہ رکھنے کی دوسری وجہ :

نبی کریم علیہ السلام سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا گیا ،تو آپ نے فرمایا :

 ذَلِكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ

ترجمہ

یہ وہ دن ہے،جس  دن میں پیدا ہوا اور مجھ پر پہلی وحی نازل ہوئی

(رواہ احمد فی مسندہ ،ومسلم فی صحیحہ ،و ابودائود فی سننہ )

 

اللہ تو سب جانتا ہے ،پھر اعمال پیش کرنے کا مقصد :

علامہ بیجوری فرماتے ہیں :

حكمة العرض أن الله تعالى يباهي بالطائعين الملائكة،

وإلا فهو غني عن العرض لأنه أعلم بعبادة من الملائكة

ترجمہ :

اعمال پیش کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالی  اپنے اطاعت گزار بندوں کی وجہ سے  فرشتوں پر فخر فرماتا ہے ،ورنہ وہ تو پیش کرنے سے بے نیاز ہے ،کیونکہ وہ فرشتوں سے زیادہ بندوں کے اعمال کو جاننے والا ہے

(مرعاۃ شرح مشکوۃ ،علامہ مبارکپوری )

 

دوسری وجہ :

امام قلیوبی فرماتے ہیں:

وَكُلُّ ذَلِكَ لِإِظْهَارِ الْعَدْلِ وَإِقَامَةِ الْحُجَّةِ

یہ سب تو صرف اظہارِعدل اور اتمام حجت کیلئے ہے

(حاشیہ قلیوبی علی المحلی ،ج2،ص 92،دار الفکر ،بیروت )

 

تحریر لکھنے کے مقاصد :

یہ تحریر لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ ان دنوں کو اہمیت دیں ،ان دنوں میں کثرت سے نیکیاں کریں ،دن کو روزہ رکھیں ،انکی راتوں میں قیام کریں ،ان دنوں میں اللہ کی بارگاہ میں معافی مانگیں ،توبہ کریں ،جن بندوں سے بلاوجہ شرعی ناراض ہیں ،ان سے بھی معافی مانگیں ،ممکن ہو ،تو میرے لیے بھی ایمان پر موت کی دعا مانگیں ۔

طالب دعا :

احسان اللہ کیانی

5۔مئی ۔2018

 

 

گناہوں کا بوجھ:

گناہوں کا بوجھ:
تحریر:احسان اللہ کیانی

گناہ کرنے سے دل سخت اور سیاہ ہو جاتا ہے،
گناہوں کی وجہ سے عبادت میں دل نہیں لگتا، عبادت میں لذت نہیں ملتی۔۔۔گناہ کے عادی کو نیکی کرنا پہاڑ لگتا ہے

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
گناہوں کا بوجھ نہ تو عبادت میں لذت و سرور آنے دیتا ہے
اور
نہ ہی نیکیوں کے لیے آسانیوں کا سامان پیدا ہونے دیتا ہے
(منھاج العابدین، مترجم، ص55 ،شبیر برادرز)

توجہ طلب:
اگر آپ چاہتے ہیں، کہ نیکیوں میں آپ کا دل لگے۔۔۔ عبادت کی لذت نصیب ہو۔۔۔۔نیکیاں کرنا آسان ہو جائیں
تو خدارا گناہ چھوڑنے پر توجہ دیں ۔

شب برات کے متعلق صحیح احادیث :

شب برات کے متعلق صحیح احادیث :

شب برات کے متعلق بہت سی احادیث ہیں ،کچھ صحیح ہیں ،کچھ ضعیف ہیں

لیکن

 ضعیف حدیث بھی دیگر شواہد کی وجہ سے حسن یا صحیح کے درجے تک پہنچ چکی ہیں

یا یوں کہ لیں

وہ احادیث سند کے اعتبار سے تو ضعیف ہیں ۔۔۔۔لیکن معنی کے اعتبار سے صحیح ہیں

جیسے

 طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم

ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے

یہ حدیث( امام ابن عبد البر کے قول کے مطابق) اپنی ہر سند کے اعتبار سے ضعیف ہے

لیکن

ہم سب اس حدیث کو مانتے ہیں ،سنتے ،سناتے ہیں ،بلکہ اس کو بطور دلیل بھی پیش کرتے ہیں

کیونکہ

 یہ بہت سی ضعیف سندوں سے  مروی ہونی کی وجہ سے حسن کے درجے تک پہنچ چکی  ہے

اور

حسن روایت کو بطور دلیل استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

اسی طرح یہ بھی یاد رکھیے کہ

ضعیف حدیث سے فضائل  ثابت کیے جا سکتے ہیں ،چاہے وہ  اعمال کی فضائل ہو یا شخصیات کے فضائل ہو ں

یہ بھی یا درکھیے کہ

ضعیف حدیث سے مستحب عمل ثابت کیا جا سکتا ہے ۔۔۔اسی طرح ۔۔۔۔ضعیف احادیث پر عمل بھی کیا جاتا ہے ۔۔۔جب اس میں کوئی احتیاط ہو ۔۔۔جیسے بدھ کے دن ناخن کاٹنا منع ہے ،کیونکہ اس سے بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے ۔

صحاح ستہ میں اس رات کے متعلق چار روایات میں نے دیکھی ہیں ۔۔۔۔۔۔ممکن ہے ۔۔۔اس سے زیادہ بھی ہوں

ایک ترمذی شریف میں ہے جبکہ تین سنن ابن ماجہ میں ہیں

ترمذی کی حدیث کے بعد امام ترمذی نے خود لکھا ہے ۔۔۔میں نے امام بخاری سے سنا ہے ۔۔۔۔وہ اس حدیث کو ضعیف کہتے تھے ۔۔۔

سنن ابن ماجہ کی  ایک روایت کو البانی صاحب نے حسن کہا ہے

صحیح ابن خزیمہ میں اس کے متعلق ایک صحیح حدیث میں نے دیکھی ہے

صحیح ابن حبان میں بھی اس کے متعلق ایک صحیح حدیث میری نظر سے گزری ہے

ابن خزیمہ کی کتاب التوحید میں بھی اس رات سے متعلق ایک صحیح حدیث موجود ہے

جامع المسانید و السنن میں ایک روایت ہے ۔۔۔۔جسے البانی صاحب نے صحیح کہا ہے

 مزید بھی بہت سی احادیث موجود ہیں ۔۔۔لیکن ہم چند پر ہی اکتفا کر رہے ہیں

ملاحظہ فرمائیں

حدیث صحیح :

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ:

” «يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ، أَوْ مُشَاحِنٍ» ".

 

اللہ تعالی شعبان کی پندرہوی شب کو تمام مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے ،پھر تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے ،سوائے مشرک اور مشاحن کے ۔

 

یہ حدیث  امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں نقل کی ہے

 

امام ہیثمی فرماتے ہیں

ان دونوں روایات کے تمام روای ثقہ ہیں

ملاحظہ فرمائیں

مجمع الزاوئد :حدیث نمبر 12960

 

توجہ طلب :

اس رات  مشاحن کی بخشش نہیں ہوتی

مشاحن :اس شخص کو کہتے ہیں :جو بغض ،کینہ اور دشمنی رکھنے والا ہو

اسی لیے لوگ اس رات سے پہلے پہلے لوگوں سے دشمنی معافی مانگ لیتے ہیں

 

ملاحظہ فرمائیں :

حدیث صحیح:

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ – رضي الله عنه – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ – صلى الله عليه وسلم -: ” إِنَّ اللهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ , فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ , إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ

یہ حدیث جامع المسانید و السنن میں ہے

اسے البانی صاحب نے بھی صحیح کہا ہے

 

سنن ابن ماجہ کی تین روایت ملاحظہ فرمائیں

سنن ابن ماجہ کی پہلی روایت :

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ

سن ابن ماجہ ،کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیھا،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان:1388

 

توجہ طلب :

اس حدیث میں ہے ،اس رات قیام کرو ،دن کا روزہ رکھو

اس رات بخشش ہوتی ہے ،رزق مبتلا ہے ،آزمائشوں سے نجات ملتی ہے

 

 

سن ابن ماجہ کی دوسری روایت :

«إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ»

سن ابن ماجہ ،کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیھا،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان:1389

 

توجہ طلب :

اس رات بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت ہوتی ہے

 

سنن ابن ماجہ کی تیسری روایت :

إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ

سن ابن ماجہ :1390

یاد رہے

اس حدیث  کو البانی صاحب نے بھی حسن کہا ہے

مزید ملاحظہ فرمائیں

صحیح حدیث :

عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَمِّهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِكُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ فِي قَلْبِهِ شَحْنَاءُ، أَوْ مُشْرِكٌ بِاللَّهِ»

امام ابن خزیمہ نے اسے اپنی کتاب التوحید میں صحیح کہا ہے

ملاحظہ فرمائیں

حدیث ضعیف جو اپنے شواہد کی وجہ سے صحیح ہے

 عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” يَطَّلِعُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا

لِاثْنَيْنِ: مُشَاحِنٍ، وَقَاتِلِ نَفْسٍ

(مسند احمد :6642)

توجہ طلب :

یہ حدیث مسند احمد بن حنبل میں ہے

شعیب ارنوط اور عادل مرشد وغیرہ نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے

یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ،لیکن اپنے شواہد کی وجہ سے صحیح ہے ۔۔۔مسند احمد کے حاشیے میں انہوں نے اس کے سات شواہد ذکر کیے ہیں ۔

امید ہے ۔۔۔آپ ہماری بات سمجھ گئے ہوں گے ۔۔۔

اہل علم مسند احمد کی حدیث کے متعلق محقیقن کی اصل عبارت ملاحظہ فرما سکتے ہیں

حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وحيي بن عبد الله.

وذكره الهيثمي في "مجمع الزوائد” 8/65، وقال: رواه أحمد، وفيه ابنُ لهيعة، وهو لين الحديث، وبقية رجاله وثقوا.

وله شاهد من حديث عائشة، سيرد 6/238.

وآخر من حديث معاذ بن جبل عند ابن حبان برقم (5665) .

وثالث من حديث أبي موسى الأشعري عند ابن ماجه (1390) ، وابن أبي عاصم (510) ، والبيهقي في "شعب الإيمان” (3833) ، واللالكائي في "شرح أصول الاعتقاد” (763) .

ورابع من حديث أبي بكر عند البزار (2045) ، وابن خزيمة في "التوحيد” ص 136، والبيهقي في "شعب الإيمان” (3828) و (3829) ، وابن أبي عاصم (509) ، واللالكائي (750) .

وخامس من حديث أبي ثعلبة الخشني عند ابن أبي عاصم في "السنة” (511) ، واللالكائي (760) ، والبيهقي في "شعب الإيمان” (3831) و (3832) .

وسادس من حديث أبي هريرة عند البزار (2046) .

وسابع من حديث عوف بن مالك عند البزار (2048) .

از

احسان اللہ کیانی

2۔مئی ۔2018